لٹریچر فیسٹیول۔ اُردو سے زیادہ انگریزی میں

کشور ناہید

llf3


ہال نمبر4میں کل 70 کرسیاں لگی تھیں۔ کم از کم 500 لوگ اندر آنا چاہتے تھے۔ مسئلہ بھی ایسا تھا۔ عبداللہ حسین کے ساتھ ایک گھنٹے کا پروگرام لاہور لٹریچر فیسٹیول میں ہونا تھا۔ شائقین فیصل آباد، اندرون شہر لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ اور لاہور کے سارے کالجوں سے آئے تھے۔ وہ سب عبداللہ حسین کو دیکھنا اور سننا چاہتے تھے مگر ہال کے اندر گنجائش صرف 70 بندوں کی تھی۔ اس وقت بڑے ہال میں کرکٹ پر مذاکرہ ہورہا تھا۔ اس میں گنجائش 750 لوگوں کے بیٹھنے کی تھی۔ بتانا مقصود یہ ہے کہ اول تو اردو ادب سے متعلق سیشن آٹے میں نمک کے برابر رکھے گئے تھے۔ ان کے لئے بھی چھو ٹے ہال منتخب کئے گئے تھے۔ جبکہ سیاسی موضوعات سے لیکر ملکہ ترنم، نصیرالدین شاہ اور سارے غیرملکی ادیبوں کے لئے بڑے ہال محفوظ کئے گئے تھے۔

لاہور فیسٹیول بسنت کے حوالے سے چاروں جانب پیلے پھولوں اور پیلے رنگوں سے بھرا ہوا تھا۔ قدرت کو بھی امتحان لینا تھا کہ ایک دم بادل ایسے گھر کرآئے کہ سارے لاہور شہر میں اندھیرا چھا گیا اور یہ وہی وقت تھا جب مشہور تاریخ دان پرومیلا تھاپر نے تاریخ اور تہذیب کے اشتراک اور برصغیر میں اس کی ضرورت پر گفتگو کرنا تھی۔ وہ تو خیر ہوئی کہ ہال نمبر1 میں یہ افتتاحی خطبہ تھا اور لوگ گرج چمک کی آوازوں کے ساتھ پرومیلا تھاپر کی آواز کی گونج سن رہے تھے کہ اگر مذہب کو ثقافت پر اس طرح ترجیح دینے اور نام نہاد مذہبی تنظیموں کو بے لگام چھوڑ دیا جائے گا تو ہر دوسرے دن ناقابل بیان منظر نظر آئینگے کہ بچوں سے لیکر عورتوں تک کو جس بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے۔ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ادب اس کو بیان کرتا ہے، ناول انہی کرداروں کو پیش کرتے ہیں۔ جیسا کہ پشاور قصہ خوانی بازار میں 1930میں جو قتل عام ہوا، اس کو کاملہ شمسی نے بڑی عمدگی سے پیش کیا ہے۔کتابوں کے حوالے سے کوئی 24 تقریبات تھیں۔ اردو میں صرف ایک تھی اور وہ تھی ’’من وتو‘‘ آصف فرخی کے انٹرویوز پر مشتمل، وہ مجموعہ جو انہوں نے 1980کے دوران غلام عباس، فیض صاحب اور انتظار حسین کے علاوہ 12اور ادیبوں کے انٹرویوز کئے تھے۔ اس تقریب میں کوئی چار سو لوگ اندر تھے تو کوئی پانچ سو باہر تھے مراد یہ ہے کہ ادب کو کم تر سمجھتے ہوئے، چھوٹے ہال اور انگریزی سے متعلق جلسوں کے لئے بڑے ہال رکھے گئے تھے۔ اسی طرح مشاعرے میں یہ حال تھا کہ جو راہ بھٹک کر یا فیصلہ کرئے کہ آج تو مشاعرہ ضرور پڑھنا ہے، وہ آگیا، اس کو مشاعرہ پڑھنے کی جگہ مل گئی۔ مشاعرہ سننے والوں میں بیشتر نوجوان تھے۔ واہ واہ اور سیٹیوں کو یکجا کرنے لگے تو میں نے ان کو آداب مشاعرہ سمجھائے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ عباس تابش کی زیادہ تر غزلیں ان نوجوانوں کو یاد تھیں میں نے شکر کیا کہ احمد فراز کے بعد، اب ایسا شاعر ہے جس کو لوگ پسند کرتے ہیں۔

بہت ہی اچھی بات جو کراچی فیسٹیول اور لاہور فیسٹیول میں نمایاں تھی وہ یہ کہ تمام ہالز اور تمام تقریبات کا پورا انتظام، نوجوان بچیوں کے ہاتھ میں تھا۔ اتنی خوبصورتی سے آغاز اور اختتام کرتی تھیں کہ سارے پروگرام وقت پر شروع اور ختم ہوتے تھے۔ سیاسی موضوعات میں لوگوں کی ادب کی طرح بہت دلچسپی تھی۔ البتہ انگریزی ادیبوں کی کتابوں کی تقریب میں سوائے کاملہ شمسی کے اور کسی کتاب کی جگہ، لوگوں نے باہر ٹھنڈی ہوا میں بیٹھنا پسند کیا۔ چاروں جانب بسنتی رنگ کی چادریں اور پھول بکھرے ہوئے تھے۔ تکلیف تھی تو صرف یہ تھی کہ لوگ پتنگ نہیں اڑا سکتے تھے۔ یہ کسک ہر ایک کے دل میں تھی۔ پاکستان کبھی کبھار آنے والا شیکھر گپتا بھی کہہ رہا تھا ’’یار پتنگیں تو لاہور کی مشہور ہیں۔ وہ کیوں نظر نہیں آرہیں۔ ہمیں سب کو معلوم تھا مگر معلوم نہیں کس کا پردہ منظور تھا کہ سب خاموش رہے۔

اس کے علاوہ انگریزی پروگراموں کی بہتات تھی اور نوجوان ناراض ہورہے تھے۔ یہ گلہ بھی تھا کہ آخر کیوں سارے عمر رسیدہ لوگوں کو بلالیا جاتا ہے۔ سب میں نوجوان اگر تھے تو وہ آصف فرخی تھے جو خیر سے پچاس کے لپیٹے میں ہیں۔ چاہتے یہ تھے کہ لاہور ہی کے، کم از کم نوجوان ادیبوں کو کچھ نہیں تو کم از کم ہر سیشن میں نئے لکھنے والوں کو شامل کیا جاتا۔ اس طرح اچھے نئے لکھنے والوں کی کتابوں کو بھی افتتاحی فنکشن کے حوالے سے تبصروں کے لئے شامل کیا جاتا۔ نئے مصوروں اور نئے موسیقاروں کے حوالے سے بھی سیشن منعقد ہوتے اور رقص کو کیوں محفل سے خارج کردیا گیا تھا۔

انٹرویوز شامل ہیں۔ کمال کی نشست ہوئی۔ سوال و جواب بھی خوب ہوئے اور پھر گلہ یہی تھا کہ اردو کے اخباروں میں بھی ادب کو مناسب جگہ نہیں دی جاتی۔ اگر دی بھی جائے تو پہلے سے تنبیہ کردی جاتی ہے کہ نہ عشق کا ذکر ہو، نہ مذہبیت کا اور نہ شراب کا۔ پھر شخصیت میں رہ کیا جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ان موضوعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے، مگر زندگی کے ہر راستے سے ادیب گزرتا ہے، کبھی دیکھتا ہے اور کبھی تجربہ کرتا ہے۔ اس طرح مقبول عام اور عمدہ کتابوں میں کیا فرق ہے۔ اس پر بحث میں لوگوں نے بتایا کہ ایک زمانے میں ابن صفی بہت مقبول رہے۔ پھر میڈیا آگیا تو پھر جو کچھ ٹیلی وژن پر دکھایا جاتا۔ وہ کتابی شکل میں بھی مقبول ہونے لگا۔ سنجیدہ ادب کے ساتھ معاملہ نہیں رہا۔ وہ سنجیدہ حلقوں میں ہمیشہ ہی پڑھا جاتا رہا ہے اور رہے گا۔ اب ہمارے نوجوان جو انگریزی اسکولوں میں پڑھ کر نکل رہے ہیں وہ کاملہ شمسی، محسن حامد، ندیم اسلم اور محمد حنیف کو پڑھتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان ناولوں میں جنس سے لیکر دیگر ممنوعہ موضوعات پر بھی کھل کر لکھا جاتا ہے، مجال ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر ہو یا اعتراض اٹھایا جائے۔

اس کانفرنس میں کچھ اور راز افشا ہوئے۔ یوں تو علی مدیح ہاشمی نے علی اکبر ناطق کو ترجمہ کیا ہے، فیض صاحب پر بھی کتاب لکھ رہے ہیں۔ مگر کہتے ہیں کہ عصمت چغتائی کی زبان ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر یہ سمجھ میں نہیں آتی تو انتظار حسین کی بیتال دلچسپی اور سنگھا سن بیتی جو ہماری بھی مشکل سے سمجھ میں آتی ہیں۔ علی مدیح بھلا کب اور کیسے سمجھے گا۔کالموں کے حوالے سے سیشن میں عارف نظامی نے نظامت اور سچ کہا کہ جو کچھ میں انگریزی کالم میں لکھ سکتا ہوں۔ اس کو اردو کے ایڈیٹر تسلیم نہیں کرتے۔ اول تو سیاست کے حوالے سے بیشتر کالم گزشتہ خبروں کی تخلیص اور پھر ان کی دانست میں جائزہ ہوتا ہے۔ ویسے جب یہ عنوان درمیان میں آہی گیا ہے تو ایک مرتبہ تو ضرور انتظار حسین کے کالموں کا مجموعہ ’’اپنی دانستان میں‘‘ ضرور پڑھ لیں۔ زبان کا ذائقہ بھی ملے گا اور بہت سے موضوعات بھی سمجھمیں آجائیں گے۔ اُردو تقریبات کے آرگنائزر کی کیا بات ہے۔ انہوں نے زاہد ڈار سے پوچھا ’’کیا آپ مسعود اشعر ہیں‘‘۔

http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=285956.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s