مغلوں اور بقالوں کے دور میں لاہوری برج

عدنان خان کاکڑ

Chauburgi
لاہور برصغیر کا وہ شہر ہے جو ہر دور میں اہم رہا ہے۔ خواہ رامائن کا دور ہو جب رام چندر کے بیٹے لوہ کے نام پر اس شہر کا نام رکھا گیا تھا، یا ہندو شاہی کا دور جب لاہور ایک بڑی ہندو شاہی سلطنت کا دارالسطنت تھا جو پنجاب سے لے کر موجودہ افغانستان کے مزار شریف تک پھیلی ہوئی تھی، یا غزنوی دور تھا جب لاہور سلاطین غزنی کا پایہ تخت بنا، یا پھر خاندان غلاماں کا زمانہ تھا جس کا پہلا سلطان قطب دین ایبک یہیں انارکلی میں جاں ہار گیا۔
اور مغلوں کی تو بات ہی کیا تھی۔ ہمایوں کے بھائی کامران مرزا کی غالباً پورے برصغیر میں ایک ہی نشانی بچی ہے۔ دریائے راوی میں کامران کی بارہ دری۔ اور پھر اکبر آیا تو چودہ سال تک اس نے لاہور سے اپنی عظیم سلطنت کو چلایا۔ جہانگیر یہاں دفن ہوا اور شاہجہاں یہاں پیدا ہوا۔ اورنگ زیب کے عہد میں بادشاہی مسجد اور قلعے کا عالمگیری دروازہ تعمیر ہوئے۔
شاعرانہ طبیعت رکھنے والے مغلوں کے اس محبوب شہر نے ان سے خراج محبت پانے میں کمی نہ دیکھی۔ یہاں قلعے میں شیش محل اور دیوان عام و خاص بنے۔ نور جہاں اور جہانگیر کے عالیشان مقبرے یہیں تعمیر ہوئے۔ شالیمار باغ بنا۔ مغل باغات کے شہر لاہور میں اور ایک اور وسیع باغ اورنگ زیب کی بیٹی زیب النسا نے بنوایا۔ روایت ہے کہ یہ وسیع و عریض باغ موجودہ نواں کوٹ اور سمن آباد سے لے کر قدیم شہر کی فصیلوں تک پھیلا ہوا تھا۔ اس کے چند ہی آثار باقی بچے ہیں۔ چند بچے کھچے برج سمن آباد اور نواں کوٹ کے گھروں کے کونوں کھدروں میں موجود ہیں اور کسی وقت بھی کسی نئے گھر کی تعمیر کے لیے ڈھائے جا سکتے ہیں۔ اس کی صرف ایک نمایاں نشانی بچی ہے۔ چوبرجی دروازہ۔


چوبرجی دروازے نے زیب النسا کے دور کا شکوہ بھی دیکھا ہے، اور 1843 کے زلزلے کی تباہی بھی جب اس کا ایک برج مسمار ہو گیا تھا اور گوروں نے اسے دوبارہ تعمیر کیا تھا۔ لیکن وہ تو قصہ تھا مغلوں کا اور گوروں کا۔ بہرحال مغلوں نے بہت کچھ بنایا، بس نہ بنائی تو میٹرو نہ بنائی۔
پھر لاہور پر ایک دور آیا بقالوں، یعنی پنساریوں کا، تاجروں کا، جن کا تعلق امرتسر سے تھا۔ مغلوں کے دور کے بعد لاہور نے ایسا تعمیراتی عروج بقالوں کے دور میں ہی دیکھا ہے۔ درمیان میں چند گورے گزرے ہیں جن کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ٹھہرا ہے کہ انہوں نے لاہور کی مال روڈ بنوا دی ہے۔ ورنہ جیسی تعمیرات مغلوں اور بقالوں کے دور میں ہوئیں ہیں، وہ چشم فلک نے نہیں دیکھی ہیں۔
لیکن ان دونوں تعمیراتی ادوار میں ایک نمایاں فرق ہے۔ مغل ذرا مناظر فطرت سے محبت کرنے والی ذہنیت کے حامل تھے۔ زمین سے پیار کرتے تھے۔ جہاں نظر پڑتی تھی، وہاں باغ یا بارہ دری بنا کر عیش کا سامان کرتے تھے۔ جو کیاری نظر آتی تھی وہاں درخت گاڑ دیتے تھے۔ سیر کے شوقین تھے اور “جنت بر روئے زمین است” کے نعرے لگاتے پھرتے تھے اور شعر کہتے تھے۔ کوئی عمارت بناتے تھے تو اس پر ب±رج، یعنی مینار لگا دیتے تھے۔ ان کی اس فطرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاہور شہر چاروں طرف سے باغات میں گھر گیا اور ایک بڑی آبادی کا تو نام ہی باغبان پورہ ٹھہرا۔
بقال اتنے شاعر اور مالی طبیعت نہیں ہیں۔ ان کا مالی پنا، بیل بوٹوں کی بجائے مال و زر کے حساب کتاب میں ہی نمایاں ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے لاہور نے شہر میں تعمیرات کا آغاز کیا تو پہلے تو ہر چوک کو دیکھتے ہی اس میں ایک فوارہ گاڑنے لگے۔ چوک ختم ہو گئے لیکن شوق ختم نہیں ہوئے۔ نتیجہ یہ کہ شہر کے گرد کی ساری ہریالی پر ہاﺅسنگ سوسائٹیاں بنانے کی مہم چلائی گئی تاکہ نئے چوک میسر ہوں اور نئے فوارے لگ سکیں۔
کچھ عرصے بعد کسی نے ذکر کیا کہ عوام کو اتنے زیادہ فوارے دیکھنے میں دقت ہو رہی ہے۔ اس کا کچھ حل نکالا جانا چاہیے۔ تو حل یہ نکالا گیا کہ شہر میں بلند و بالا بِرِج [bridge] تعمیر کیے جائیں اور ان پر میٹرو چلا دی جائے۔ یہ برج فارسی والے مینار نہیں تھے۔ اب انگریزی کا رواج تھا، اس لیے یہ انگریزی کے برج، یعنی پل تھے۔ پہلے میٹرو بس چلا کر اس کے گرد لوہے کی ایک ایسی فصیل تعمیر کی گئی کہ مغلوں کے قلعے کی فصیلیں اس سے شرمسار ہوں۔ اس سے بھی دل نہیں بھرا تو ایسے پل تعمیر ہونے لگے جو کہ مغلوں اور انگریزوں کی تعمیرات کو کہیں نیچے چھوڑ گئے۔
سلاطین بقالاں کا فلسفہ سادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ عوام صدیوں سے یہی پرانے محلات اور کھنڈرات دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکے ہیں۔ اب ان کو ڈھا کر ان کی بجائے جدید میٹرو بنائی جائے تاکہ قوم کو پتہ چلے کہ ملک اکیسویں صدی میں داخل ہو چکا ہے۔
سو اب پرانے بادشاہوں کے آثار، یعنی شالامار باغ، جی پی او، اور چوبرجی وغیرہ کو قربان کر کے جدید میٹرو چلائی جائے گی۔ چلائے جانے کو تو یہ ان قدیم آثار کے نیچے سے بھی گزاری جا سکتی تھی، اور کچھ فاصلے سے بھی، لیکن ایسا ہوا تو لوگ مغل شہنشاہوں اور دربار صاحب امرتسر کے نواح کے بقال شہنشاہوں کے دور میں فرق کیسے کر پائیں گے؟
تاریخ ان کو ہی پیاری ہوتی ہے جو پیسے کی بجائے اپنے شہروں سے، اپنے وطن سے پیار کرتے ہیں۔ جو اپنے شہر کے مزاج کو سمجھتے ہیں۔ جو اس کی روح سے جڑے ہوتے ہیں۔ ورنہ چوبرجی تباہ کر کے میٹرو ہی چلتی ہے۔

یہ مضمون دنیا پاکستان میں پوسٹ ہوا تھا۔

One response to “مغلوں اور بقالوں کے دور میں لاہوری برج

  1. Loved the way, you put it here…. Its the most relevant & exact wording that could express the feeling of Lahorites, even all Pakistanis who love their cultural heritage and want to save it…..

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s