Tag Archives: Minorities

Celebrating Diwali in Lahore

By Hum-Aahang
12065819_10156239734310191_6124122292509767588_n
Most people would think of Diwali being celebrated in Pakistan as an exclusively Hindu event, and mostly focused around Sindh where the majority of the Hindu population of Pakistan resides. However, this time around we made it a point to celebrate this holy festival in our university in order to celebrate diversity that exists amongst us, and as a gesture of respect for a sizable Hindu community that resides in LUMS.
Since most of the problems in the country revolve around a collective lack of empathy and intolerance, it becomes all the more important to hold such events to promote amalgamation and unity between people of different faiths that live with us. Continue reading

Advertisements

بھیرو کا استھان، ہندوؤں کی قدیم تاریخی عبادت گاہ جو رہائش گاہ بن گئی

This article was originally posted in The Daily Express

مندر کی عمارت میں رہائشی لوگ بہت ساری طلسماتی اور ماورائی کہانیوں کے اسیر ہیں۔ فوٹو: فائل

قدیم لاہور کے مقام کے بارے میں مؤرخین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس وقت کے پرانے لاہور سے کچھ فاصلے پر واقع اچھرے کو قدیم لاہور کہا جا سکتا ہے۔ہندوستان میں کئی قدیم شہروں کے گرد فصیلوں میں موجود دروازوں کے نام نسبتی ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے شہروں کے رخ کی جانب ہونے کے باعث ان شہروں کے ناموں پر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جس طرح پرانے لاہور میں دہلی اور کشمیری دروازوں کے رخ ان شہروں اور مقامات کی جانب ہیں۔ اسی طرح اگر لاہوری دروازے کی سیدھ میں دیکھا جائے تو اچھرہ کا علاقہ دکھائی دیتا ہے۔

یہ قرین قیاس ہے کہ قدیم لاہور کا مقام اچھرہ ہی ہو۔ اچھرہ میں ہمیں دو قدیم مندروں کے حوالہ جات بھی تاریخ کی کتب میں ملتے ہیں۔ ایک مندر ’’چاند رات مندر‘‘ تھا جس کا رقبہ کئی کنال پر محیط تھا۔ لیکن اب اس مندر کے آثار ڈھونڈنے سے مل نہ پائیں گے۔ دوسرا مندر ’’بھیرو کا استھان‘‘ تھا۔ تاریخ کی کچھ کتب میں اسے ’’بھیرو استھان‘‘ بھی کہا گیا ہے۔

’’استھان‘‘ ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی مقام‘ جگہ‘ حالت‘ رہائش گاہ‘ مندر‘ مزار کے ہیں۔ ’’تھان‘‘ بھی ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی مقام اور جگہ کے ہیں۔ چونکہ یہ مندر بھیرو سے منسوب ہے تو یہ مندر بھیرو کا مندر‘ یا بھیرو کی رہائش گاہ کے معنی میں لیا جاسکتا ہے ۔ اب ایک نگاہ بھیرو پر بھی ڈال لی جائے۔

ہندو اساطیر کی روشنی میں بھیرو نامی ایک دیوی کا تذکرہ ملتا ہے جو ہندوئوں کے لیے اپنے تقدس کے باعث مشہور ہے۔ اس کے بھگت کامیابی کے لئے اس کی پوجا کرتے ہیں۔ سید لطیف نے اپنی کتاب ’’تاریخ لاہور‘‘ میں اس مندر کے حوالے سے دیوی ہی کا ذکر کیا ہے۔

دیوی کے ساتھ ساتھ بھیرو نامی دیوتا بھی دیو مالائی کہانیوں کا ایک مشہور اور خاص کردار ہے۔ ہندوستان میں کئی مقامات پر اسی دیوتا کے نام سے بڑے بڑے مندر اور پوجا گھر دکھائی دیتے ہیں۔ ہندو روایات میں یہ دیوتا اپنے غیض و غضب کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس کے بھگت عموماً اس کی پوجا اپنے دشمنوں پر کامیابی حاصل کرنے کی غرض سے کرتے ہیں۔ لاہور کی تاریخ کے حوالے سے کئی کتب میں یہ مندر اسی دیوتا سے منسوب ہے۔ یہ دیوتا شیوا جی اور دیوی ستی کا اوتار ہے۔

دیوی ستی کا باپ دکھشا نامی دیوتا تھا۔ دکھشا نے ایک بار بہت عظیم الشان یوجنا کا اہتمام کیا جس میں تمام دیوتاؤں کو مدعو کیا گیا لیکن شیوا کو نہ بلایا گیا۔ ستی دیوی کو اپنے شوہر کی بے عزتی کا گہرا رنج ہوا اور وہ اسی یوجنا کی آگ میں جل کر مر گئی۔ شیوا نے ستی دیوی کی موت کے باعث اس کے باپ دکھشا کو مار ڈالا اور یوجنا کی آگ سے اس کا جسم اٹھا لیا تاکہ وہ تاندوا کی رسم پوری کر سکے۔ اس کتھا کے آخر میں دھرتی کا پالن کرنے کے لئے وشنو دیوتا نے ستی کے جسم کے ٹکڑے پرتھوی (زمین) پر گرا دیئے جو کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گرے۔

جہاں جہاں وہ ٹکڑے گرے وہیں وہیں پر بھگتی کے مندر تعمیر ہوتے گئے۔ شیوا ان مندروں کی حفاظت کے لئے بھیرو کی شکل میں آتا ہے اور بھیرو کوتوال کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کوتوال کے علاوہ بھیرو راہو اور یوگیوں کے دیوتا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یوگی اور تانترک بھگت شدھی حاصل کرنے کے لئے خاص منتروں کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی جسمانی مشقتیں بھی کرتے ہیں۔ یوگا اور تانترک یہ مشقیں نروان حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ ان مشقوں کا ذکر بارہا گرو رجنیش المعروف اوشو نے بھی کیا ہے۔

Continue reading

First Pakistani Jesuit ordained in Lahore

He is Fr. John, who joins two other priests of the Society present in Pakistan. Fr. Zeechin, the local superior of the congregation, says “he can be a good example in the community by supporting our charisma, mainly in education, catechism and interfaith dialogue.”

Lahore (AsiaNews/UCAN) – The first Pakistani Jesuit. He is Fr. Imran John, 33, ordained on March 28 in the cathedral of the Sacred Heart in Lahore. About 40 priests, both diocesan and members of the Society, took part in the ordination of the new priest, presided over by the archbishop of Lahore, Lawrence John Saldanha. Continue reading

minorities artwork finds esteem in Lahore

Rashmi Talwar writes on how the minorities artwork finds esteem in Lahore






Ancient artwork finds a semblance of esteem at Cooco’s Den in Lahore

Nothing surprises you more than finding a rich repository of Hindu, Buddhist, Jain and Christian ancient artifacts in the heart of Lahore, Pakistan. Continue reading