Tag Archives: temple

بھیرو کا استھان، ہندوؤں کی قدیم تاریخی عبادت گاہ جو رہائش گاہ بن گئی

This article was originally posted in The Daily Express

مندر کی عمارت میں رہائشی لوگ بہت ساری طلسماتی اور ماورائی کہانیوں کے اسیر ہیں۔ فوٹو: فائل

قدیم لاہور کے مقام کے بارے میں مؤرخین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس وقت کے پرانے لاہور سے کچھ فاصلے پر واقع اچھرے کو قدیم لاہور کہا جا سکتا ہے۔ہندوستان میں کئی قدیم شہروں کے گرد فصیلوں میں موجود دروازوں کے نام نسبتی ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے شہروں کے رخ کی جانب ہونے کے باعث ان شہروں کے ناموں پر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جس طرح پرانے لاہور میں دہلی اور کشمیری دروازوں کے رخ ان شہروں اور مقامات کی جانب ہیں۔ اسی طرح اگر لاہوری دروازے کی سیدھ میں دیکھا جائے تو اچھرہ کا علاقہ دکھائی دیتا ہے۔

یہ قرین قیاس ہے کہ قدیم لاہور کا مقام اچھرہ ہی ہو۔ اچھرہ میں ہمیں دو قدیم مندروں کے حوالہ جات بھی تاریخ کی کتب میں ملتے ہیں۔ ایک مندر ’’چاند رات مندر‘‘ تھا جس کا رقبہ کئی کنال پر محیط تھا۔ لیکن اب اس مندر کے آثار ڈھونڈنے سے مل نہ پائیں گے۔ دوسرا مندر ’’بھیرو کا استھان‘‘ تھا۔ تاریخ کی کچھ کتب میں اسے ’’بھیرو استھان‘‘ بھی کہا گیا ہے۔

’’استھان‘‘ ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی مقام‘ جگہ‘ حالت‘ رہائش گاہ‘ مندر‘ مزار کے ہیں۔ ’’تھان‘‘ بھی ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی مقام اور جگہ کے ہیں۔ چونکہ یہ مندر بھیرو سے منسوب ہے تو یہ مندر بھیرو کا مندر‘ یا بھیرو کی رہائش گاہ کے معنی میں لیا جاسکتا ہے ۔ اب ایک نگاہ بھیرو پر بھی ڈال لی جائے۔

ہندو اساطیر کی روشنی میں بھیرو نامی ایک دیوی کا تذکرہ ملتا ہے جو ہندوئوں کے لیے اپنے تقدس کے باعث مشہور ہے۔ اس کے بھگت کامیابی کے لئے اس کی پوجا کرتے ہیں۔ سید لطیف نے اپنی کتاب ’’تاریخ لاہور‘‘ میں اس مندر کے حوالے سے دیوی ہی کا ذکر کیا ہے۔

دیوی کے ساتھ ساتھ بھیرو نامی دیوتا بھی دیو مالائی کہانیوں کا ایک مشہور اور خاص کردار ہے۔ ہندوستان میں کئی مقامات پر اسی دیوتا کے نام سے بڑے بڑے مندر اور پوجا گھر دکھائی دیتے ہیں۔ ہندو روایات میں یہ دیوتا اپنے غیض و غضب کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس کے بھگت عموماً اس کی پوجا اپنے دشمنوں پر کامیابی حاصل کرنے کی غرض سے کرتے ہیں۔ لاہور کی تاریخ کے حوالے سے کئی کتب میں یہ مندر اسی دیوتا سے منسوب ہے۔ یہ دیوتا شیوا جی اور دیوی ستی کا اوتار ہے۔

دیوی ستی کا باپ دکھشا نامی دیوتا تھا۔ دکھشا نے ایک بار بہت عظیم الشان یوجنا کا اہتمام کیا جس میں تمام دیوتاؤں کو مدعو کیا گیا لیکن شیوا کو نہ بلایا گیا۔ ستی دیوی کو اپنے شوہر کی بے عزتی کا گہرا رنج ہوا اور وہ اسی یوجنا کی آگ میں جل کر مر گئی۔ شیوا نے ستی دیوی کی موت کے باعث اس کے باپ دکھشا کو مار ڈالا اور یوجنا کی آگ سے اس کا جسم اٹھا لیا تاکہ وہ تاندوا کی رسم پوری کر سکے۔ اس کتھا کے آخر میں دھرتی کا پالن کرنے کے لئے وشنو دیوتا نے ستی کے جسم کے ٹکڑے پرتھوی (زمین) پر گرا دیئے جو کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گرے۔

جہاں جہاں وہ ٹکڑے گرے وہیں وہیں پر بھگتی کے مندر تعمیر ہوتے گئے۔ شیوا ان مندروں کی حفاظت کے لئے بھیرو کی شکل میں آتا ہے اور بھیرو کوتوال کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کوتوال کے علاوہ بھیرو راہو اور یوگیوں کے دیوتا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یوگی اور تانترک بھگت شدھی حاصل کرنے کے لئے خاص منتروں کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی جسمانی مشقتیں بھی کرتے ہیں۔ یوگا اور تانترک یہ مشقیں نروان حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ ان مشقوں کا ذکر بارہا گرو رجنیش المعروف اوشو نے بھی کیا ہے۔

Continue reading

Image

Photo of the Day: A Hindu Temple in Sanda

Hindu Temple

The Photo was taken by @ShirazHassan

Balmiki Temple possession: Christian, Hindu committees to meet at Minority Affairs Dept

* Hindu representatives say they plan to renovate temple with government’s help, don’t want any interference
* Christian group hopes meeting will finally resolve dispute

By Ali Usman (writing for The Daily Times)

LAHORE: Christians who have claimed possession of the Balmiki Temple on the basis of ancestral heritage and Hindus who want rights to it for worship have agreed to form a four-member committee to resolve the possession dispute.

Following a meeting with a Minorities section officer, who had taken notice of the situation on the directions of Minority Affairs Minister Kamran Michael, the two groups have also decided to submit written reports of their respective stances to the Department of Human Rights and Minority Affairs. Reportedly, the section officer, along with an Inter-Religious Peace Council representative, visited the temple to discover whether the Hindus were being disturbed while conducting their worship. Continue reading

Destroying the heritage- Bhadhar Kali Mandar: a remarkable feat of ancient engineering fading away

 Locals planning to demolish temple to construct residential quarters | Department concerned must intervene
 
Haroon Khalid’s excellent story
 
 LAHORE: An old Hindu temple of historical significance situated in the east of Thokar Niaz Beg, called the Bhadhar Kali Mandar, is facing decay and destruction.

The exact date of the construction of this mandar has not been deciphered but according to the founder of Punjabi research institute, Khojgarh, Mr Iqbal Kaisar it has to be around 2000 years old. The temple has one central building, with a huge pool in the center of the main complex. The walls of the mandar had beautiful frescoes, some of which have managed to survive over the years. The stone pool was fed by 12 wells through an indigenous drainage system.

People visiting the temple to pay homage to Kali Mata, used to bathe in the pool to avoid heat. There were four fountains in each corner of the pool which supplied fresh water to it.

The building of the temple was three storied and there was a wall around the central building. There were rooms inside the temple for the priests and visitors. Inside and outside the temple there were elaborate constructions “Samadhein” for “Sadhus”, which also had frescoes. Five of these Samadhein are still partially intact. Samadhein are basically dome shaped constructions, where the cremated ashes of holy persons were kept. Continue reading